اسلام آباد(پی ۔آئی۔ڈی )

آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارت کو ایک بزدل اور مکار دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانا بھارتی قابض فوج کا وطیرہ بن چکا ہے۔ دنیا کے کسی معاشرے میں غیر مسلح شہریوں خاص طور پر بچوں اور عورتوں پر گولیاں برسانا غیر اخلاقی اور بزدلانہ فعل سمجھا جاتا ہے لیکن بھارت نے تمام انسانی اور اخلاقی اقدار کو پامال کر کے لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی پر گولہ باری کرنے کو معمول بنا لیا ہے۔ آزادکشمیر کی وادی نیلم میں بھارتی فوج کی طرف سے فائرنگ کے نتیجہ میں ایک خاتون کی شہادت اور چار بچوں سمیت نو شہریوں کو زخمی کرنے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے بھارتی فوج کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے یہ مذموم ہتھکنڈے آزادکشمیر کے عوام کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریک آزادی کی حمایت اور اپنے بہن بھائیوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام اپنا پیدائشی اورجمہوری حق، حق خودارادیت مانگ رہے ہیں جس کا وعدہ اقوام عالم نے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیری عوام سے کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کو بھارت کی اشتعال انگیزی اور علاقے میں جنگی جنون پیدا کرنے کی کوششوں کا نوٹس لینے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان 2003کے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کی اشتعال انگیز اقدامات نہ صرف امن اور علاقائی سلامتی کے خلاف گہری سازش ہے بلکہ ایسے بزدلانہ اقدامات سے کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے وادی نیلم کے شاہ کوٹ سیکٹر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والی آسیہ بی بی کے خاندان سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور فائرنگ سے زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں ایسے منفی اور بزدلانہ ہتھکنڈے کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بھارت کے تمام تر جبرو استبداد کے باوجود اپنے حق آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت گزشتہ ستر سال میں پانچ لاکھ سے زائد کشمیریوں کو قتل کر چکا ہے لیکن اپنے تمام تر مظالم کے باوجود کشمیریوں کے دلوں سے جذبہ آزادی اور پاکستان کے ساتھ ان کی والہانہ محبت کو نہیں نکال سکا۔ قبل ازیں قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی اور فیکلٹی ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ آزاد جموں وکشمیر کی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر سے تعلیم کی غرض سے آنے والے طلبہ و طالبات کے مسائل کو ترجیح بنیاد پر حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں سرکاری شعبے میں قائم پانچ جامعات بتدریج اپنا معیار تعلیم اور تحقیق بہتر بنا رہی ہیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارے آزادکشمیر کی جامعات کے ساتھ طویل المدتی تعاون بڑہائیں تاکہ آزادکشمیر کی نوزائیدہ جامعات اپنے تعلیمی اہداف آسانی سے حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ بھی خواہش ہے کہ آزادکشمیر کی جامعات اور قائد اعظم یونیورسٹی کی مشترکہ نگرانی میں آزادکشمیر کے طلبہ اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل کریں۔ اسی سلسلے میں آزادکشمیر کی سرکاری جامعات اور قائد اعظم یونیورسٹی کے مابین مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط ہونے چاہیے۔ صدر سردار مسعود خان نے بین الجامعاتی اور یونیورسٹی ٹو یونیورسٹی تعاون بڑہانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے صدر آزادکشمیر کو یقین دلایا کہ ان کی جامعہ آزادکشمیر کی تمام جامعات کے ساتھ ہر قسم کا تعلیمی اور تکنیکی تعاون بڑہائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ عزم اور وعدہ ہے کہ کشمیر کے دونوں حصوں کے طلبہ و طالبات کو علم کے ہتھیاروں سے مسلح کر کے کشمیر کی تحریک آزادی میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

Download as PDF