صدارتی سیکرٹریٹ ، مظفرآباد

مظفرآباد ( )صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر کامسئلہ سیاسی اور قانونی ہے جسے وکلاء سب سے زیادہ اور اچھے انداز میں سمجھ سکتے ہیں ۔ آزاد کشمیر کے وکلاء قانون کی حکمرانی اور ا انصاف کی سر بلندی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو اس کے درست سیاسی اور قانونی تناظر میں اُجاگر کرنے اور مقبوضہ وادی میں بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کو موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ یہ بات انہوں نے منگل کے روز ایوان صدر مظفرآباد میں سنٹرل بار ایسوسی ایشن کے صدر مقبول الرحمان عباسی ایڈووکیٹ کی قیادت میں ملنے والے سنٹرل بار کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ وفد میں بار کے نائب صدر راجہ آصف ترک ایڈووکیٹ ، جوائنٹ سیکرٹری راجہ حامد جاوید ایڈووکیٹ اور مجلس عاملہ کے ارکان محترمہ کوثر پروین ایڈووکیٹ ، وقار فاروق عباسی ایڈووکیٹ اور سعید اعوان ایڈووکیٹ شامل تھے ۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ سنٹرل بار ایسوسی ایشن آزاد کشمیر کی سب سے بڑی بار ہے جس کے ممبران کی تعداد چھ سو سے زیادہ ہے اور خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی بار کی ممبر ہے اور اس اعتبار سے آزاد کشمیر میں قانون کی حکمرانی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہنوں اور بھائیوں کے حق خود ارادیت کے لیے اُٹھنے والی آوازوں کو دنیا تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی سب سے زیادہ مظفرآباد کی سنٹرل بار پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کا طبقہ قانون کو سمجھنے ،قانون کے مطابق عمل کرنے اور دنیا کو قانون اور انصاف کے مطابق فیصلے کرنے کا مشورہ دینے والا طبقہ ہوتا ہے اس لیے ہمارے وکلاء اپنے ملکی قانون کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کا مطالعہ کر کے مسئلہ کشمیر کے حو الے سے عوام اور حکومت کی رہنمائی کریں اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور وہاں نافذ کالے قوانین کے خلاف اپنی موثر آواز بلند کریں۔ صدر آزاد کشمیر نے سنٹرل بار کے صدر مقبول الرحمان عباسی سے کہا کہ وہ بار کے پلیٹ فارم سے وکلاء کا ایک ایسا فورم یا کمیٹی بنائیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی اور کشمیر کے حوالے سے دنیا بھر میں ہونے والی سر گرمیوں کو مانیٹر کر کے انہیں عوام تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ چھ سو وکلاء میں سے اگر صرف ایک سو وکلاء سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیر کی تحریک آزادی کو اُجاگر کرنا شروع کر دیں تو یہ بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے ۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہم اکثر بین الاقوامی برادری کی بے حسی کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہم خود کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم کو ختم کرنے کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور برطانیہ کی پارلیمنٹ میں قائم کل جماعتی پارلیمانی گروپ کی رپورٹ نے بھارت کے مکروہ چہرے کو برُی طرح بے نقاب کیا ۔ ضرورت اس امور کی ہے کہ ان رپورٹوں اور ان کی سفارشات کو دنیا بھر میں سوشل اور روایتی میڈیا کے ذریعے پھیلایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے ہر فرد کو انصاف اور قانون کے حوالے سے وکلاء سے بڑی توقعات ہوتی ہیں اور ہمیں اپنے وکلاء سے یہ بجا طور پر یہ توقع ہے کہ وہ جہاں آزاد کشمیر کے مظلوم طبقات کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں وہاں وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے اپنے مظلوم ، مقہو ر اور مجبور بھائیوں اور بہنوں کے لیے بھی آواز اٹھائیں گے اور حق خود ارادیت کی تحریک میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ اس سے قبل سنٹرل بار کے وفد نے صدر آزاد کشمیر کو سنٹرل بار کا دورہ کرنے کی دعوت دی جسے صدر آزاد کشمیر نے قبول کرتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ وہ جلد بار کا دورہ کریں گے وفد کی طرف سے مظفرآباد میں نیلم جہلم پن بجلی منصوبے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور سماجی مسائل کے خاتمہ کے لیے صدر آزاد کشمیر کو کردار ادا کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ عوامی تحفظات سے پوری طرح آگاہ ہیں اور حکومت آزاد کشمیر اس سلسلہ میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مظفرآباد میں بننے والے تین ڈیموں اور توانائی کی منصوبوں سے یہاں کے عوام اور شہر کے باسیوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہو گا ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ان منصوبوں سے ماحولیات اور انسانی اور حیوانی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اگر یہ اثرات منفی ہیں تو ان کا تدارک کیسے کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے سنٹرل بار کے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت عوامی جذبات اور احساسات کو بھی نظر انداز نہیں کرے گی اور قومی نوعیت کے منصوبوں جن کا تعلق ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل سے ہے ا نہیں بھی جذبات کی بھینٹ نہیں چڑھائے گی ۔

Download as PDF