صدارتی سیکرٹریٹ ، کیمپ آفس کشمیر ہاؤس اسلام آباد

لاہور( )آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیری عوام اپنی قومی آزادی، انسانی وقار اور اپنی پیدائشی حق کے حصول کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں اُن کے عزائم ہمالیہ سے بلند جنہیں شکست دینا بھارت کے بس میں نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک سو ترانوے رکن ممالک کو آزادی حق خودارادیت کے اصول کی بنیاد پر ملی کشمیریوں کو اس پیدائشی حق سے کیسے محروم کیا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیومن رائٹس سوسائٹی آف پاکستان کے زیر اہتمام ایک مجلس مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مجلس مذاکرہ سے ممتاق قانون دان ایس ایم ظفر، ہیومن رائٹس سوسائٹی کے صدر سید عاصم ظفر، صحافی، مصنف اور دانشور لبنیٰ ظہیر، جسٹس ریٹائرڈ شریف بخاری، محترمہ لبنیٰ منصور ، اے ایم شکوری اور الیگزینڈر جان ملک نے بھی خطاب کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر رہا ہے اور کشمیریوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ کر ان کے جائز ، منصفانہ اور حق پر مبنی جدوجہد کو کچلنا چاہتا ہے لیکن شاید بھارت اس حقیقت سے بابلد ہے کہ کشمیریوں کا عزم ہمالیہ کی چوٹیوں سے زیادہ بلند جس کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی قابض فوج نے پلوامہ میں بچوں، نوجوانوں اور بوڑھوں پر گولیاں برسا کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ پتھر کا جواب گولی سے دے گا لیکن بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ نازی جرمنی بھی طاقتور تھا اور اس نے بھی بہت ظلم کئے تھے لیکن پھر ایسا وقت بھی آیا کہ اسے اپنے ایک ایک ظلم کا حساب دینا پڑا۔ سردار مسعود خان نے بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹیجو کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کشمیر میں ایک ایسی جنگ لڑ رہی ہے جو وہ کبھی جیت نہیں سکتی ہے۔ ایک فوج دوسری مقابل فوج سے تو لڑ سکتی ہے لیکن وہ عوام سے جنگ لڑ کر کبھی جیت نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو کشمیر میں اتنا ظلم نہیں بڑہانا چاہیے کہ پھر انہیں جنگ عظیم دوئم میں مظالم کرنے والوں کی طرح نورم برگ طرز کی عدالتوں کے سامنے اپنے جنگی جرائم کا حساب دینا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ واشنگٹن، لندن، برسلز اور دیگر اہم دارالحکومتوں میں کشمیر کے بارے میں خاموشی پائی جاتی ہے لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ پوری بین الاقوامی برادری خاموش نہیں ہے اب بھی کچھ لوگ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بول رہے ہیں جس کا واضح ثبوت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن اور برطانیہ میں قائم کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کی وہ رپورٹس ہیں جن میں بھارتی فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو پہلی بار موثر انداز میں بے نقاب کیا گیااور بھارت کے خلاف ایک فرد جرم عائد کی گئی۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ بد قسمتی اور المیہ ہے کہ دنیا کی حکومتیں اور ان کی خارجہ امور کی وزارتیں کشمیر میں ہونیو الے واقعات پر مکمل طور پر خاموش ہیں جبکہ سول سوسائٹی، این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے آواز بلند کر رہے ہیںَ انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیریوں اور پاکستان کے سامنے سب سے بڑ ا چیلنج یہ ہے کہ جو لب سلے ہوئے ہیں ان کو کیسے کھلوایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نہیں چاہتے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان نیو کلیئرفلیش پوائنٹ بن جائیں ۔ کشمیری چاہتے ہیں کہ تنازعہ کشمیر پر امن ، سیاسی ذرائع سے حل ہو اوروہ دونوں ملکوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔
مجلس مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز قانون دان اور پارلیمنٹرین ڈاکٹر ایس ایم ظفر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں چلنے والی تحریک عوامی ہے جس کی کامیابی کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اگر بھارت تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہ کیا تو پھر بھارت کوجان لینا چاہیے کہ امریکہ نے بھی ویت نام میں پانچ لاکھ فوج کے ساتھ چڑہائی کی تھی اور سترہ سال تک یہ جنگ لڑنے کے باوجود اس کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مجلس مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے مصنف اور ممتاز قلمکار لبنیٰ ظہیر نے کہا کہ دنیا حقوق کے بارے میں بہت حساس ہے۔ مغرب میں انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ کتوں، بلیوں اور دیگر جانوروں کے حقوق کے بارے میں بھی آواز بلند کی جاتی ہے لیکن حیرت ہے کہ یہی ممالک کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر بھی خاموش ہیں اور ایک اعتبار سے بھارت کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کو مزید پامال کرے۔ لبنیٰ ظہیر نے کہا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں کوئی معمولی واقعہ بھی ہو جائے تو یہی مغربی ممالک ان واقعات پر آواز بلند کرنے والوں کے لئے ایوارڈ لے کر کھڑی ہوتے ہیں یہ دو عملی ہے جس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
***


صدارتی سیکرٹریٹ ، کیمپ آفس کشمیر ہاؤس اسلام آباد
21-12-2018
***

اسلام آباد( )آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے ممتاز سینئر صحافی اور روزنامہ ڈان کے نمائندہ خصوصی طارق نقاش کو سنٹرل پریس کلب مظفرآباد کا بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ اپنے مبارکباد کے پیغام میں صدر آزادکشمیر نے سنٹرل پریس کلب کے نئے سال کے لئے بلا مقابلہ منتخب ہونے والے دیگر عہدیداران کو بھی مبارکباد دیتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ طارق نقاش کی قیادت میں پریس کلب کی نئی انتظایہ بلا تخصیص صحافیوں کے مسائل کو حل کرے گی اور آزادکشمیر میں مثبت اور با مقصد صحافت کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔

Download as PDF