اسلام آباد(پی۔آئی۔ڈی)27دسمبر 2018

آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کی سرکاری جامعات اور صنعتی اداروں کے درمیان تفاوت کو دور کرنے کے لئے اہم اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ جامعات میں تعلیمی ٹیکنالوجی کی کمی اور معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لئے بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور کنسٹرکشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ (سی ٹی ٹی آئی) کے دورے کے بعد یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ریکٹر لیفٹیننٹ جنرل خالد اصغر، یونیورسٹی کے رجسٹرار اور فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے بھی موجود تھے۔ جبکہ صدر گرامی کے ہمراہ آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی مظفرآباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی، میر پور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمان ، یونیورسٹی آف پونچھ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد رسول جان، یونیورسٹی آف کوٹلی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر دلنواز احمد گردیزی ، وویمن یونیورسٹی آف آزاد جموں وکشمیر باغ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد حلیم خان اور سیکرٹری صدارتی امور سردار محمد ظفر خان بھی تھے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا آزاد جموں وکشمیر کی حکومت اور عوام کے لئے یہ بات قابل فخر ہے کہ ریاست پچاسی فیصد شرح کے ساتھ پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں سے تعلیمی لحاظ سے آگے ہے لیکن ہمیں تعلیم کے لئے سازگار ماحول اور بنیادی تعلیمی ڈہانچے کی کمی اور کم معیار تعلیم جیسے مسائل کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پاکستان کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ انہیں یونیورسٹی کے مشن اور اس کی انتظامیہ کی طرف سے یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد جان کر بے حد خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ یونیورسٹی نہ صرف پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں اہم کردار اد اکرے گی بلکہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ دنیا میں ملک کا نام روشن کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کے بعد اس بات کی مزید ضرورت بڑھ گئی ہے کہ ہمارے طلبہ کو جاب مارکیٹ کی مانگ کے مطابق تعلیم دی جائے تاکہ وہ قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ اقتصادی ترقی کے لئے اہم منصوبہ ضرور ہے لیکن یہ ملک کی قومی ترقیاتی منصوبے کا متبادل ہر گز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقتصادی اور ٹیکنالوجیکل انقلاب کے دہانے پر کھڑا ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ نیشنل ٹیکنالوجی یونیورسٹی اس انقلاب اور تبدیلی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ نیو ٹیک کو پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی جامعہ قرار دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے طلبہ کے لئے ملک کی اس اہم جامعہ اور سی ٹی ٹی آئی میں نشستیں مختص کرنے پر شکریہ ادا کیا اور یونیورسٹی کی انتظامیہ سے کہا کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے طلبہ کے لئے مختص نشستوں میں مزید اضافہ کریں۔ قبل ازیں یونیورسٹی پہنچنے پر نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ریکٹر اور رجسٹرار سمیت فیکلٹی ممبران نے صدر اور آزاد جموں وکشمیر کی جامعات کے وائس چانسلر حضرات کا بھر پور استقبال کیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے صدر سردار مسعود خان اور دیگر مہمانوں کو نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور کنٹسٹرکشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے بارے میں اہم بریفنگ دی جبکہ صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان سی ٹی ٹی آئی کے کلاس روزمز کا دورہ کیا اور انسٹیٹیوٹ کی طرف سے طلبہ کو دی جانے والی ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لئے قائم مختلف شعبہ جات کا بھی معائنہ کیا۔

Download as PDF